Brailvi Books

رِیاکاری
145 - 167
یہاں غیر اللہ کی عبادت کی جارہی ہے ۔چنانچہ وہ جذبۂ توحید سے معمور بڑی غضبناک حالت میں کلہاڑا لے کر اس درخت کو کاٹنے چلا،اس کے ایمان نے یہ گوارا نہ کیا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی اور کی عبادت کی جائے ۔اسی جذبہ کے تحت وہ درخت کاٹنے جا رہا تھا کہ شیطان مردود اس کے سامنے اِنسانی شکل میں آیا اور کہنے لگا :''تُو اتنی غضبناک حالت میں کہا ں جا رہا ہے ؟''اس مسلمان نے جواب دیا : ''میں اس درخت کو کاٹنے جا رہا ہوں جس کی لوگ عبادت کرتے ہیں ۔''یہ سُن کر شیطان مردود نے کہا :'' جب تُو اس درخت کی عبادت نہیں کرتا تو دوسروں کا اس درخت کی عبادت کرنا تجھے کیا نقصان دیتاہے ؟تُو اپنے اس ارادے سے باز رہ اور واپس چلا جا۔''اس مسلمان نے کہا : ''میں ہرگز واپس نہیں جاؤں گا۔'' معاملہ بڑھا اور شیطان نے کہا :'' میں تجھے وہ درخت نہیں کاٹنے دوں گا ۔''

    چنانچہ دونو ں میں کُشتی ہو گئی اور اس مسلمان نے شیطان کو پچھاڑ دیا،پھر شیطان نے اسے لالچ دیتے ہو ئے کہا : ''اگر تُو اس درخت کو کاٹ بھی دے گا تو تجھے اس سے کیا فائدہ حاصل ہوگا۔میرا مشورہ ہے کہ تو اس درخت کو نہ کاٹ، اگر تُوایسا کریگا تو روزانہ تجھے اپنے تکیے کے نیچے سے دو دینار ملا کریں گے ۔''وہ شخص کہنے لگا:'' کون میرے لئے دو دینار رکھا کریگا ۔''شیطان نے کہا :'' میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ روزانہ تجھے اپنے تکیے کے نیچے سے دو دینارملاکریں گے ۔''وہ شخص شیطان کی اِن لالچ بھری باتوں میں آگیااور دودینار کی لالچ میں اس نے درخت