| رِیاکاری |
تاخیر ہوگئی تو آخری صف میں جگہ ملی ۔ میں نے اپنے دل میں اِس بات سے شرم محسوس کی کہ''لوگ کیا کہیں گے کہ یہ آج اتنی دیرسے آیا ہے ؟'' اُس وقت میں سمجھا کہ'' یہ سب لوگوں کے دِکھانے کے لیے تھا کہ وہ مجھے پہلی صف میں دیکھیں''( چنانچہ یہ تمام نمازیں اَکارت گئیں اور میں نے ان کی قضا لوٹائی)
(کیمائے سعادت،ج ۲ ، ص ۸۷۶)
اللہ اکبر! ہمارے اَسلاف کِرام علیھم رحمۃالمنعام کا جذبۂ اِخلاص صد مرحبا!فقط ایک'' خطرۂ دِلی''کی بنا پر تیس برس کی نمازوں کو رائیگاں تصور کر کے ان کی قضالوٹائی اور ایک طرف ہم ہیں کہ ان کی غلامی کا دَم بھرتے ہیں اور حال یہ ہے کہ اوّل تو ''کِشْتِ قلب(یعنی دل کی کھیتی)''ـ ، ''ذوقِ عبادت''کے'' بیج''سے خالی اور جیسے تیسے کر کے عبادت کر بھی لی تو'' اِخلاص کے پانی'' سے سیرابی مفقود بلکہ'' نام ونمود کی آفتِ بد'' سے'' فصلِ عبادت''تباہ کر بیٹھتے ہیں۔ ع
کھا گئی سب نیکیوں کو خواہشِ نام و نمود
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(8) اِخلاص فروش
حضرت سیدنا مبارک بن فُضالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کر تے ہیں: ''کسی علاقے میں ایک بہت بڑا درخت تھا ،لوگ اس کی پوجا کیا کرتے تھے اور اس طرح اس علاقے میں کفر و شرک کی وبا بہت تیزی سے پھیل رہی تھی۔ایک مسلمان شخص کا وہاں سے گزر ہوا تو اسے یہ دیکھ کر بہت غُصّہ آیا کہ