| رِیاکاری |
اوران میں سے اکثر سفر کسی قسم کا زادِ راہ لئے بغیر کئے ۔پھر مجھ پر آشکار ہوا کہ یہ سب تو میری خواہشِ نفسانی سے آلودہ تھے کیونکہ ایک مرتبہ میری ماں نے مجھے گھڑے میں پانی بھر کر لانے کا حکم دیا تو میرے نفس پر ان کا حکم گراں گزرا ، چنانچہ میں نے سمجھ لیا کہ سفرِ حج میں میرے نفس نے میری موافقت فقط اپنی لذت کے لئے کی اور مجھے دھوکے میں رکھا کیونکہ اگر میرا نفس فناہو چکا ہوتا تو آج ایک حقِ شرعی پورا کرنا اسے بے حد دشوار کیوں محسوس ہوتا ؟''
(الرسالۃ القشیریۃ ،ص۱۳۵)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس سے پتا چلا کہ بسا اوقات نفس نیکیوں کے پردے میں بھی اپنا کام کر دِکھاتا ہے وہ اِس طرح کہ جس نیک کام میں یہ لذت محسوس کرتا اور اپنی خواہش پُوری ہوتے دیکھتا ہے اسے کرنے پر بخوشی تیار ہو جاتا ہے اور جس نیک کام میں اِس کے لیے کوئی کششcharm) (نہ ہو اس میں گرانی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ؎
او شہد نمائے زہر در جام گُم جاؤں کدھر تری بدی سے (حدائقِ بخشش)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(7) پہلی صف چھوٹ جانے پر پریشانی کیوں؟
امام سیدنا محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ القوی کیمیائے سعادت میں نقل فرماتے ہیں کہ ایک بزرگ نے ارشاد فرمایاکہ میں نے تیس برس کی نماز قضا کی جسے میں نے ہمیشہ پہلی صف میں کھڑے ہو کر ادا کیاتھا ۔اسکا باعث یہ ہواکہ ایک دن مجھے کسی وجہ سے