حضرت سیِّدُناعمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو اپنے دُرّے سے مارا پھر فرمایا :مجھ سے اِس کا بدلہ لو۔ اس نے عرض کیا: میں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اور آپ کی خاطر معاف کردیا ۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: یہ تو کچھ بھی نہ ہوا یا تو میرے لیے معاف کروتا کہ مجھ پراحسان ہو یا صرف اللہ تعالیٰ کے لیے چھوڑ دو ۔ اس نے عرض کیا :میں نے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے معاف کیا ۔آپ نے فرمایا ہاں اب بات ہوئی ہے۔
(الحدیقۃ الندیۃ،المبحث السابع ۔۔۔۔۔۔الخ،ص۵۲۹)
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! اِس حکایت سے ہمیں یہ مَدَنی درس ملا کہ ہر نیک عمل خالصتاً ''رضائے الٰہی '' کیلئے ہو،نیت ''غیر''کی آمیزش سے پاک ہوتا کہ وہ بارگاہِ خداوندی میں شرفِ قبولیت پاجائے اور ہمارے لیے توشۂ آخرت بنے۔ ع
جس کا عمل ہے بے غرض اُس کی جزا کچھ اور ہے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(6) ماں کا حکم نفس پرکیوں گراں گزرا؟
حضرت سیدنا ابو محمد مرتعش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا،'' میں نے بہت سے حج کئے