میرے آقا ! کیا آپ نہیں جانتے کہ ٹوٹا پھوٹا کمرہ بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی یاد اوراس کے ذکر کی برکت سے باغ بن جاتا ہے ۔ چنانچہ وہ غلام دن کو اپنے آقا کی خدمت کرتا اوررات کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ۔
کچھ مدت کے بعد ایک رات کو اس کا آقا گھر میں چلتے چلتے غلام کے کمرے میں پہنچ گیا تو دیکھا کہ کمرہ روشن ہے اورغلام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہے اور اس کے سر پر آسمان وزمین کے درمیان ایک روشن قندیل لٹکی ہوئی ہے اوروہ اللہ رب العلمین کی بار گاہ میں عاجزی انکساری کے ساتھ مناجات کررہا ہے کہ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !تو نے مجھ پر میرے آقا کا حق اور دن کو اسکی خدمت لازم کردی ہے ،اگر یہ مصروفیت نہ ہوتی تو میں دن رات صرف تیری عبادت میں مصروف رہتا اسلئے اے میرے رب عزوجل! میرا عذر قبول فرما لے۔ آقا اسے دیکھتا رہا یہاں تک کہ صبح ہوئی اور روشن قندیل واپس چلی گئی اور مکان کی چھت مل گئی ۔
یہ سارا منظر دیکھ کر آقا واپس آگیا اور سب ماجرا اپنی بیوی کو سنایا ۔ دوسری رات وہ اپنی بیوی کو بھی ساتھ لے کر غلام کے دروازے پر آیا تو دیکھا کہ غلام سجدے میں پڑا ہے اور قندیل اس کے سر پر ہے وہ دونوں کھڑے ہوئے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے اور رورہے تھے ۔ آخرِ کار صبح ہوئی تو انہوں نے غلام کو بلا کر کہا ،''تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطر آزاد ہو ،تاکہ تم جو عذر پیش کر رہے تھے ، وہ دور ہوجائے اور تم یکسوئی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کر سکو ۔ غلام نے یہ سن کر اپنا سر آسمان کی