Brailvi Books

رِیاکاری
139 - 167
وقت دربار الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں مشغولِ عبادت رہتے ہیں ،دنیا دارو ں سے انہیں کوئی غرض نہیں ، وہ اُمراء کے درباروں میں جانا پسندنہیں فرماتے۔''

     اُس حاکم نے کہا :''تم لوگ اسے میرے پاس آنے کی ترغیب دلاؤ اور اسے میرے پاس ضرور لے کر آنا، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !اگر وہ نہ آیا تو مَیں اسے ضرور قتل کردوں گا ۔'' اس حاکم نے تین مرتبہ قسم کھا کران الفاظ کے ساتھ قتل کی دھمکی دی ۔ حضرت سیدنا قاسم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ اس ظالم حکمران کی یہ دھمکی سن کر ہم بہت پر یشان ہوئے اور واپس چلے آئے۔ مَیں سیدھا مسجد میں گیا اور حضرت سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچا،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک ستون سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے ۔میں نے انہیں ساری صورتحال سے آگا ہ کیااور عرض کی : ''حضور!میری تو رائے یہ ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمر ہ کرنے چلے جائیں اور کچھ عرصہ مکۂ مکرمہ میں گزاریں تا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس شریر حاکم کی نظرو ں سے اوجھل رہیں اور معاملہ رفع دفع ہوجائے ۔ ''

     آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا:'' مَیں اس عمل میں اپنی نیت حاضر نہیں پاتا اور میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو خلوصِ نیت سے ہو اور صرف رضائے الٰہی عزوجل کے لئے ہو۔''
 (عیون الحکایات ،ص۲۵۸)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
Flag Counter