Brailvi Books

رِیاکاری
137 - 167
سے اس چٹان کی مصیبت کو دور فرما دے۔''چٹان تھوڑی سی سرک گئی لیکن وہ ابھی باہر نہ نکل سکتے تھے۔

    دوسرے نے عرض کی،''یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ!مجھے اپنی چچا زاد بہن سے محبت تھی، میں نے اُس سے بُری خواہش کا اظہار کیا،لیکن اس نے انکار کر دیا۔یہاں تک کہ وہ قحط سالی کا شکار ہوکر میرے پاس آئی،میں نے اسے 100 دیناراس شرط پر دئیے کہ وہ میرے ساتھ تنہائی میں جائے،وہ رضامند ہو گئی ،جب ہم تنہائی میں پہنچے تو اس نے کہا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر اور یہ گناہ مت کر۔''یہ سن کر میں اس گناہ سے باز آگیااور وہ دینار بھی اسے دے دیئے۔اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!اگر میرا یہ عمل محض تیری رضا کے لئے تھا،تو ہم سے یہ مصیبت دور کر دے۔''چٹان کچھ اورسرک گئی لیکن ابھی بھی باہر نکلنا ممکن نہ تھا۔

    تیسرے نے عرض کی :''یا الہی عَزَّوَجَلَّ!میں نے کچھ آدمیوں کو مزدوری پر لگایا،پھر ایک کے سوا سب اپنی مزدوری لے گئے،میں نے اس کی مزدوری کو کاروبار میں لگا دیا،یہاں تک کہ اس کا مال بہت زیادہ ہو گیا۔کچھ عرصے کے بعد وہ میرے پاس آیا اور اپنی مزدوری کا مطالبہ کیا۔میں نے کہا کہ ،''یہ جتنے اونٹ، گائے،بکری اور غلام وغیرہ دیکھ رہا ہے،یہ سب تیرے ہیں۔''اس نے کہا ، ''آپ میرے ساتھ مذاق کرتے ہیں؟ ''میں نے کہا ،''نہیں ، میں مذاق نہیں کر رہا ہوں(بلکہ یہ حقیقت ہے)۔'' یہ سن کر وہ تمام مال لے کر چلا گیا،اور اس میں سے کچھ نہ چھوڑا۔اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!اگر