| رِیاکاری |
تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت ، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے کہ''گزشتہ زمانے میں تین آدمی کہیں جا رہے تھے ،رات گزارنے کے لئے انھیں ایک غار کا سہارا لینا پڑا۔وہ غار میں داخل ہوئے تو پہاڑ سے ایک چٹان لڑھک کر غار کے منہ پر آگئی ، جس سے غار کا منہ بند ہو گیا۔انھوں نے باہم طے کیا کہ اس چٹان سے نجات کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم اپنے اپنے نیک اعمال کا وسیلہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرکے دُعا مانگیں۔
اُن میں سے ایک نے عرض کی،''یا الہٰی عَزَّوَجَلَّ!میرے ماں باپ بوڑھے ہو گئے تھے ، اور میں ان سے پہلے اپنے بچوں اور خدّام کو دودھ نہیں دیا کرتا تھا ۔ایک دن میں لکڑیوں کی تلاش میں دور نکل گیا۔جب واپس لوٹا تو دیکھا کہ والدین سو چکے ہیں ،میں ان کے لئے دودھ لایا لیکن انھیں جگانا مناسب نہ سمجھا،اور نہ ان سے پہلے اہل وعیال کو دودھ پلانا پسند آیا۔بچے میرے پاؤں میں بلکتے رہے ، لیکن میں تمام رات دودھ کا پیالہ ہاتھ میں لئے کھڑا رہا۔یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔پھر میرے والدین نے دودھ پیا۔اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !اگر میں نے یہ عمل تیری رضا کے لئے کیا ہو تو، تُوہم