اور نیکی دونوں کے ثواب سے محروم ہوجائیں گے ۔
٭ریاکاری کا دل میں صرف خیال آنا اورطبیعت کا اس طرف مائل ہونا نقصان دہ نہیں ہے کیونکہ شیطان تو ہرانسان پرمسلّط ہے یہ انسان کے بس میں نہیں ہے کہ وہ شیطانی وسوسوں کو دل میں داخل ہی نہ ہونے دے۔
٭ریاکار کی تین علامتیں ہیں:(1) تنہائی میں ہو تو عمل میں سستی کرے اور لوگوں کے سامنے ہو تو جوش دکھائے،(2) اس کی تعریف کی جائے تو عمل میں اضافہ کر دے اور (3)اگر مذمت کی جائے تو عمل میں کمی کر دے۔''
٭اگریہ علامتیں ہم میں پائی جائیں تو فوراً سے پیشتر توبہ کرلینی چاہے اور حُصولِ اخلاص کی کوششوں میں لگ جائیں کہ کہیں توبہ سے پہلے موت نہ آجائے اور ہمیں ریاکاری کے اُخروی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے ۔
٭ریاکاری سے پیچھاچھڑانا دُشوار ضرور ہے ناممکن نہیں۔
٭ ریاکاری کی بیماری سے شفا کے لئے درجِ ذیل دس علاج بہت مُفیدہیں۔