٭ریا کاری اور اس کا علاج سیکھنا فرض عُلوم میں سے ہے ۔
٭ ریا کاری سے مُراد یہ ہے کہ ''بندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے علاوہ کسی اور نیت یا اِرادے سے عبادت کرے۔ ''
٭کسی کو ریاکار کہنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ دل کا معاملہ ہے ۔
٭ریاکاری کبھی تو زبان کے ذریعے ہوتی ہے اور کبھی فعل کے ذریعے ۔
٭ ممکنہ طور پر تین چیزوں میں ریاکاری ہوسکتی ہے :(۱)ایمان میں(۲) دُنیوی معاملات میں (۳)عبادات میں۔
٭عبادات میں دو طرح سے ریاکاری ہوسکتی ہے :(i)ادا ئیگی میں ریاکاری ،اور(ii) اوصاف میں ریا کاری پھر عبادات میں پایا جانے والا ریا کبھی خالص ہوتا ہے اور کبھی مخلوط(یعنی ملاوٹ والا)۔
٭ہمیں چاہے کہعبادت سے پہلے ،دوران اور بعد میں اپنی نیت کی حفاظت کریں۔
٭ نیکیوں کااظہار بعض صورتوں میں جائز ہے لیکن چھپانا بہتر ہے۔
٭ریا کی ایک قسم ریائے خفی بھی ہے جس سے بچنابہت دُشوار ہے مگر جسے اﷲعَزَّوَجَلَّ توفیق دے ۔
٭اگر کسی کے نیک عمل پر اس کی تعریف کی جائے تو اس کا خوش ہونا فطری بات ہے۔ لیکن یاد رکھئے کہ اپنی تعریف پرخوش ہونے کی بھی صورتیں ہیں ،چنانچہ یہ خوشی کبھی محمود ہوتی ہے اور کبھی مذموم،
٭گناہوں سے بچنے میں بھی ریاکاری ممکن ہے کیونکہ گناہ سے بچنا بھی نیکی ہے
٭ ریاکاری کے خوف سے نیک عمل چھوڑنا دانشمندی کی بات نہیں کیونکہ اس طرح ہم اخلاص