رسیاہونے کے ساتھ ساتھ جوان لڑکیوں کے ساتھ چھیڑخانیاں، اوباش نوجوانوں کے ساتھ دوستیاں، رات گئے تک ان کے ساتھ آوارہ گردیاں وغیرہ میرے معمولات تھے۔ میری حرکاتِ بد کے باعِث خاندان والے بھی مجھ سے کتراتے، اپنے گھروں میں میری آمد سے گھبراتے نیز اپنی اولاد کو میری صُحبت سے بچاتے تھے۔ میری گناہوں بھری خَزاں رسیدہ شام کے صبحِ بہاراں بننے کی سبیل یوں ہوئی کہ ایک دعوتِ اسلامی والے عاشقِ رسول کی مجھ پر میٹھی نظر پڑ گئی ، اُس نے نہایت ہی شفقت کے ساتھ اِنفرادی کوشِش کرتے ہوئے مجھے مَدَنی قافِلے میں سفر کی ترغیب دِلا ئی ۔ بات میرے دل میں اتر گئی اور میں نے مَدَنی قافِلے میں سفر کی سعادت حاصِل کی اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کی صحبتوں نے مجھ پاپی و بدکار کے دل میں مَدَنی انقِلاب برپا کر دیا۔ گناہوں سے توبہ کا تحفہ اور سنّتوں بھرے مَدَنی لباس کا جذبہ ملا، سر پر سبز سبز عمامہ سجا اور میرے جیسا گنہگار و اَبُو الفُضُول سنّتوں کے مَدَنی پھول لٹانے میں مشغول ہو گیا ۔ جو عزیز و اقرِبا دیکھ کر کتراتے تھے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اب وہ گلے لگاتے ہیں۔ پہلے میں خاندان کے اندر بد ترین تھا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلے کی بَرَکت سے اب عزیز ترین ہو گیا ہوں ۔