مفتی احمدیارخان علیہ رحمۃ المنّان اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں:'' یا اس طرح کہ دعوت قبول ہی نہ کرے یا اس طرح کہ قبول کرلے اور پہنچ بھی جائے، مگر وہاں کھائے نہیں، یہ عذر کر دے۔خیال رہے کہ نفلی روزے کا چھپانا بہتر ہے مگر چونکہ یہاں چھپانے سے صاحب خانہ کے دل میں عداوت پیدا ہوگی یا رنج و غم، مسلمان کے دل کو خوش کرنا بھی عبادت ہے اس لیے روزے کے اظہار کا حکم دیا گیا۔
(مِرْاٰۃُ المناجیح، ج۳، ص۱۹۸)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرت فضیل بن عیاض علیہ رحمۃ اللہ التوّاب فرماتے تھے کہ ہم نے پہلے تو لوگوں کو اِس حالت میں پایا تھا کہ وہ اُن نیکیوں میں ریا کرتے تھے جو وہ کرتے تھے اور اب لوگوں کی یہ حالت ہے کہ وہ ان باتوں میں ریا کرتے ہیں جو وہ نہیں کرتے ۔
یعنی پہلے لوگ مخلوق کو راضی کرنے کے لئے نیک کام کرتے تھے اوراب