Brailvi Books

رِیاکاری
125 - 167
محبوبِ ربِّ غنی عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشادفرمایا ،ــ''جب کوئی کسی کو کھانے کی دعوت دے تو اسے چاہیے کہ قبول کرلے ، اور اگر روزے دار ہے تو اسے دعا دے ۔''
 (جامع الترمذی ،کتاب الصوم ،باب ماجاء فی اجابۃ الصائم الدعوۃ ، رقم ۷۸۰،ج۲ ، ص۲۰۳)
    مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ ''جب کسی کو دعوت دی جائے اور وہ روزے سے ہو تو اسے چاہیے کہ کہہ دے کہ میں روزے دار ہوں ۔''
 (صحیح مسلم،کتاب الصیام،باب الصائم یدعی۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث۱۱۵۰،ص۵۷۹)
    مفتی احمدیارخان علیہ رحمۃ المنّان اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں:'' یا اس طرح کہ دعوت قبول ہی نہ کرے یا اس طرح کہ قبول کرلے اور پہنچ بھی جائے، مگر وہاں کھائے نہیں، یہ عذر کر دے۔خیال رہے کہ نفلی روزے کا چھپانا بہتر ہے مگر چونکہ یہاں چھپانے سے  صاحب خانہ کے دل میں عداوت پیدا ہوگی یا رنج و غم، مسلمان کے دل کو خوش کرنا بھی عبادت ہے اس لیے روزے کے اظہار کا حکم دیا گیا۔
 (مِرْاٰۃُ المناجیح، ج۳، ص۱۹۸)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بد ترین ریا کار
    حضرت فضیل بن عیاض علیہ رحمۃ اللہ التوّاب فرماتے تھے کہ ہم نے پہلے تو لوگوں کو اِس حالت میں پایا تھا کہ وہ اُن نیکیوں میں ریا کرتے تھے جو وہ کرتے تھے اور اب لوگوں کی یہ حالت ہے کہ وہ ان باتوں میں ریا کرتے ہیں جو وہ نہیں کرتے ۔
 (تنبیہ المغترین۲۵)
    یعنی پہلے لوگ مخلوق کو راضی کرنے کے لئے نیک کام کرتے تھے اوراب
Flag Counter