Brailvi Books

رِیاکاری
124 - 167
حکایت
    حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الولی لکھتے ہیں ؛ کسی زمانے میں بصرہ کے ہر گلی کوچے سے ذکرِ الہٰی اور تلاوتِ قرآن پاک کی آوازیں بلند ہوتی تھیں اور اِس طرح لوگوں کو ذکر الہٰی اور تلاوت قرآن پاک کی ترغیب ہوتی تھی۔ اتفاقاً اس زمانے میں کسی عالم نے ریا کی باریکیوں کے بارے میں ایک رسالہ لکھا ( اس رسالہ کی جب اِشاعت ہوئی ) تو تمام لوگ ذکر و تلاوتِ جہری سے دست بردار ہوگئے، کئی لوگوں نے کہا: کاش اس عالم نے یہ رسالہ نہ لکھا ہوتا۔
 (کیمیائے سعادت ،ج۲،ص۶۹۲)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
روزے کے بارے میں نہ پوچھو
    حضرت ابراھیم بن ادھم علیہ رحمۃ الاکرم فرماتے تھے کہ اپنے بھائی سے اس کے روزے کے بارے میں نہ پوچھو،کیونکہ اگر وہ کہتاہے کہ میں روزے دار ہوں تو اس کا نفس خوش ہوگا اور اگر کہے کہ میں روزہ دار نہیں ہوں تو اس کا نفس غمگین ہوگا اور یہ دونوں ریا کی علامتوں میں سے ہیں ۔
 (تنبیہ المغترین ،ص۲۴)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
پوچھنے پر روزے دار اپنے روزے کے بارے میں بتا دے
    حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ محترم نبی،مکّی مَدَنی ،
Flag Counter