Brailvi Books

رِیاکاری
123 - 167
اَسلاف کے اقوال
    (1)حضرت سفیان ثوری علیہ رحمۃ الباری فرماتے ہیں کہ میں نے جس قدر اعمال اپنے ظاہر کر کے کئے ہیں ، ان کو میں نہ ہونے کے برابر سمجھتاہوں کیونکہ جب لوگ دیکھ رہے ہوں اُس وقت اخلاص کا باقی رکھنا ہم جیسوں کی قدرت سے باہر ہے ۔
 (تنبیہ المغترین،ص ۲۶)
    (2)حضرت بشر حافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی فرماتے تھے کہ ہم جیسوں کے لئے یہ بھی مناسب نہیں کہ اپنے اعمال خالصہ میں سے بھی کچھ ظاہر کریں ۔تو ان اعمال کی کیا حالت ہوگی جن میں صریحا ریا داخل ہوچکی ہے ،پس ہم ایسوں کے لئے تو اعمال کا پوشیدہ رکھنا ہی مناسب ہے ۔
(تنبیہ المغترین ،ص۲۹)
    (3)حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے تھے کہ عمل وعلم وہی بہتر ہے جو لوگوں سے پوشیدہ ہو۔
 (تنبیہ المغترین ،ص۲۹)
    (4) حضرت حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں میں نے کچھ لوگوں کی صحبت اختیارکی جن  کے دلوں میں حکمت کی ایسی باتیں گزرتی تھیں کہ اگر وہ ان کو زبان پر لاتے تو وہ ان کو بھی اور ان کے ساتھیوں کو بھی نفع دیتیں لیکن انہوں نے شہرت کے خوف سے ا ن باتوں کو ظاہر نہیں کیا او ران میں سے کوئی ایک راستے میں اذیت دینے والی چیز دیکھتا تو وہ اس کو صرف اس لیے نہ ہٹاتا کہ شہرت نہ ہو۔
 (احیاء علوم الدین، کتاب ذم الجاہ والریاء،بیان ذم الریاء۔۔۔۔۔۔الخ، ج ۳، ص ۳۶۴)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
Flag Counter