Brailvi Books

رِیاکاری
119 - 167
کو ناپسند کرتے ہو؟انہوں نے عرض کیا:جی ہاں۔تو آپ نے فرمایا :''یہ تو واضح ایمان ہے۔''
 (سنن ابی داؤد،کتاب الادب،باب فی رد الوسوسۃ، الحدیث۵۱۱۱، ج۴، ص۴۲۵)
اوران کے دلوں میں وسوسے اور ان کی ناپسند یدگی پائی جاتی تھی تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ صریح ایمان سے آپ نے وسوسے مراد لئے تو اب صرف ایک بات رہ گئی یعنی اس سے مراد ان وسوسوں کی کراہت تھی جو ان (وسوسوں) کے ساتھ ہوتی تھی۔ریا اگرچہ بہت بڑا گناہ ہے لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حق میں وسوسوں سے کم ہے تو جب نا پسند کرنے کی وجہ سے بڑا گنا ہ دور ہو گیا تو ریا کا ضرر بدرجہ اولیٰ دُور ہوجانا چاہے۔
 (احیاء علوم الدین، کتاب ذم الجاہ والریاء،بیان دواء الریاء۔۔۔۔۔۔الخ، ج ۳، ص ۳۸۵)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
 (ساتواں علاج)تنہائی ہویا ہُجوم یکساں عمل کیجئے
     حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم ، نُورِ مجسّم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاکہ جب بندہ علانیہ نماز پڑھے تو بھی اچھی اور خفیہ نماز پڑھے تو بھی اچھی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ میرا سچا بندہ ہے ۔
 (سنن ابن ماجہ،کتاب الزھد،باب التوقی علی العمل،الحدیث۴۲۰۰،ج۴،ص۴۶۸)
    حکیم الامت مفتی احمدیارخان علیہ رحمۃ المنّان اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں: یعنی اس بندے میں ریا کاری نہیں ہے یہ بندہ مخلص ہے اگر ریا کار ہوتا تو علانیہ نماز اچھی طرح پڑھتا خفیہ میں معمولی طرح، جب یہ خفیہ میں بھی اچھی طرح پڑھتا ہے تو مخلص ہی ہے۔
 (مراٰۃُ المناجیح،ج۷، ص۱۴۰)
Flag Counter