اگر ہمارے ناپسند کرنے کے باوجود بھی ہمارا نفس شیطان کی دی ہوئی راہ پر چل پڑے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ ریاکاری کا گناہ ہمارے ذمہ نہیں لکھا جائے گا ۔ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی احیاء العلوم میں لکھتے ہیں :
''جان لیجئے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ بندوں کو ان کی طاقت کے مطابق ہی مکلّف بناتا ہے اور انسان کے بس میں نہیں کہ وہ شیطانی وسوسوں کو روک سکے یا طبیعت کو اس حالت پر لے آئے کہ وہ خواہشات کی طرف مائل نہ ہو۔ انسان تو یہی کر سکتا ہے کہ وہ خواہشات کا مقابلہ اس کراہت سے کرے جو انجام کی معرفت ،علم دین اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اور آخرت پر ایمان کی وجہ سے اسے حاصل ہو ئی ہے، جب وہ ایسا کرلے تو اس نے اس عمل کی ادائیگی میں انتہائی کوشش کر لی اور وہ اسی بات کا مُکلَّف ہے۔اس بات پر احادیث مبارکہ دلالت کرتی ہیں جیسا کہ مروی ہے حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خدمت میں شکایت کرتے ہوئے عرض کیا کہ ہمارے دلوں میں کچھ ایسے خیالات آتے ہیں کہ اگر ہم آسمان سے گر جائیں اور ہمیں پرندے اچک لیں یا ہوا ہمیں کسی جگہ سے اٹھا کر کسی دوسری جگہ پھینک دے تو ہمیں یہ بات ان خیالات کو زبان پر لانے سے زیادہ پسند ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے پوچھا کیا تم ان خیالات