| رِیاکاری |
مروی ہے کہ ایک طالب علم نے علماء کرام کی خدمت میں حاضر ہو کرعرض کی،''مجھے کوئی ایسا عمل بتائيے کہ جس کے باعث میں ہمیشہ نیکیاں حاصل کرتا رہوں ، کیونکہ مجھے یہ بات محبوب نہیں کہ رات اور دن میں مجھ پرکوئی ایسا لمحہ آئے کہ میں اس میں کوئی نیک عمل نہ کررہا ہوں۔''اسے جواب دیا گیا کہ''جس قدر ممکن ہو نیکی کرو،جب تھک جاؤ تونیک اعمال کی نیت کرو،کیونکہ نیت کرنے والا بھی نیک عمل کرنے والے کی مثل ہے۔''
(احیاء علوم الدین،کتاب النیۃ والاخلاص والصدق،الباب الاول فی النیۃ،ج۵،ص۸۹)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(چھٹا علاج)دورانِ عبادت شیطانی وسوسوں سے بچئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اِخلاص قبولیت کی کُنجی(چابی) ہے ،لہٰذا جس طرح نیک عمل سے پہلے دل میں اخلاص ہونا ضروری ہے اسی طرح عبادت کے دوران اسے قائم رکھنا بھی ضروری ہے کیونکہ شیطان مسلسل ہمارے دل میں وسوسے ڈالنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے ۔حضرت فضیل بن عیاض (علیہ رحمۃ الرزاق)فرماتے تھے کہ جو شخص اپنے اعمال میں ساحر(یعنی جادوگر)سے زیادہ ہوشیار نہ ہوگا ضرور ریا میں پھنس جائے گا ۔
(تنبیہ المغترین ،ص۲۳ )
عبادت کے دوران شیطانی وسوسوں سے چھٹکارے کے لئے تین چیزیں