Brailvi Books

رِیاکاری
115 - 167
اضافہ کردیا اور اتنی کثرت سے نمازيں پڑھيں کہ ہمہ وقت نماز ميں مشغول دیکھے جاتے۔ ليکن کسی نے آپ کی طرف تَوَجُّہ نہيں کی۔ ایک سال اسی طرح گزر گیا۔ ایک مرتبہ آپ مسجد سے باہر آئے تو ندائے غيبی آئی :''اے مالک !تجھے اب توبہ کرنی چاہيے۔''یہ سن کر آپ کو ايک سال تک اپنی خود غرضانہ عبادت پر شديد رنج و شرمندگی ہوئی اور آپ اپنے قلب کو رِيا سے خالی کر کے خلوصِ نيت کے ساتھ ساری رات عبادت میں مشغول رہے ۔ 

    صبح کے وقت مسجد کے دروازے پر لوگوں کاايک مجمع موجود تھا،اور لوگ آپس ميں کہہ رہے تھے کہ'' مسجد کا انتظام ٹھيک نہيں ہے لہذا اسی شخص کو مُتَوَلِّی بنا ديا جائے اور تمام انتظامی امور اس کے سپرد کر ديے جائيں ۔''سارا مجمع اس بات پر متفق ہو کر آپ علیہ رحمۃ اللہ الغفارکے پاس پہنچا اور آپ کے نماز سے فارغ ہونے کے بعدانہوں نے آپ سے عرض کی کہ'' ہم باہمی طور پر کئے گئے متفقہ فيصلے سے آپ کو مسجد کا مُتَوَلِّی بنانا چاہتے ہيں۔''آپ علیہ رحمۃ اللہ الغفارنے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی :''اے اللہ !ميں ايک سال تک ريا کارانہ عبادت ميں اس ليے مشغول رہا کہ مجھے مسجد کی تَوْلِیْت حاصل ہو جائے مگر ايسا نہ ہوا اب جبکہ ميں صِدْقِ دل سے تيری عبادت ميں مشغول ہوا تو تمام لوگ مجھے مُتَوَلِّی بنانے آ پہنچے اور ميرے اوپر يہ بار ڈالنا چاہتے ہيں،ليکن ميں تير ی عظمت کی قسم کھاتا ہوں کہ ميں نہ تو اب توليت قبول کروں گا اور نہ مسجد سے باہر نکلوں گا ۔''يہ کہہ کر پھر عبادت ميں مشغول ہو گئے ۔
 (تذکر ۃ الاولياء،باب چہارم،ذکر مالک دینار رحمۃ اللہ علیہ،ج ۱ ،ص ۴۸ ،۴۹)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
Flag Counter