حَکِیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنّان اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں:مختلف جماعتوں وقبیلوں کے مسلمان وہ بھی ہیں جو اس غزوہ میں جانے کی دل سے تمنا کرتے تھے مگر کسی سخت مجبوری کی وجہ سے نہ جاسکے۔(وہ تمہارے ساتھ تھے ) اس طرح کہ جسم ان کے مدینہ میں رہے اور دل تمہارے ساتھ جہاد میں رہے ۔ نیز ان کی نیت ،ان کے ارادے تمہارے ساتھ رہے یا وہ اجروثواب میں تمہارے ساتھ رہے کہ تمہارے پیچھے تمہارے گھر بار کی دیکھ بھال اور تمہارے بال بچوں کی خدمت کرتے رہے۔اِس طرح وہ نفسِ ثواب میں تمہارے ساتھ شریک رہے ۔اگرچہ عملی جہاد میں تم ان سے بڑھ گئے۔اس وجہ سے غنیمت میں ان کا حصہ نہ ہو گا۔اس سے معلوم ہوا کہ نیتِ خیر کا بڑا درجہ ہے ۔اس طرح کسی نیکی سے رہ جانے پر افسوس کرنا بھی ثواب ہے ۔