Brailvi Books

رِیاکاری
114 - 167
راستے اور وادی سے گزرے وہ ہمارے ساتھ تھے اور عذر کے سبب رک گئے تھے۔''
 (صحیح البخاری ،کتاب الجہاد والسیر ، الحدیث ۲۸۳۹ ، ج۲ ، ص ۲۶۵)
    حَکِیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنّان اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں:مختلف جماعتوں وقبیلوں کے مسلمان وہ بھی ہیں جو اس غزوہ میں جانے کی دل سے تمنا کرتے تھے مگر کسی سخت مجبوری کی وجہ سے نہ جاسکے۔(وہ تمہارے ساتھ تھے ) اس طرح کہ جسم ان کے مدینہ میں رہے اور دل تمہارے ساتھ جہاد میں رہے ۔ نیز ان کی نیت ،ان کے ارادے تمہارے ساتھ رہے یا وہ اجروثواب میں تمہارے ساتھ رہے کہ تمہارے پیچھے تمہارے گھر بار کی دیکھ بھال اور تمہارے بال بچوں کی خدمت کرتے رہے۔اِس طرح وہ نفسِ ثواب میں تمہارے ساتھ شریک رہے ۔اگرچہ عملی جہاد میں تم ان سے بڑھ گئے۔اس وجہ سے غنیمت میں ان کا حصہ نہ ہو گا۔اس سے معلوم ہوا کہ نیتِ خیر کا بڑا درجہ ہے ۔اس طرح کسی نیکی سے رہ جانے پر افسوس کرنا بھی ثواب ہے ۔
 (مراٰۃ المناجیح،ج۵،ص۴۲۹/۴۳۰)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
خُلوصِ نیت
    حضرتِ سیِّدُنا مالِک بن دينار علیہ رحمۃ اللہ الغفار دِمشق ميں مُقِیم تھے اور حضرتِ سیِّدُنا امير معاويہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی تيار کردہ مسجد ميں اِعْتِکاف کيا کرتے تھے۔ ايک مرتبہ ان کے دل میں خيال آيا کہ کوئی ايسی صورت پيدا ہو جائے کہ مجھے اس مسجد کا مُتَوَلِّی(یعنی انتظام سنبھالنے والا) بنا ديا جائے ۔ چنانچہ آپ نے اعتکاف میں
Flag Counter