Brailvi Books

رِیاکاری
112 - 167
    (6)حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ر ء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ،''جس نے نیکی کا ارادہ کیا پھر اسے نہ کرسکا تو اس کے لیے ایک نیکی لکھی جائے گی ۔''
 (صحیح مسلم ،کتاب الرعات، باب اذاھم العبد بحسنۃ کتبت۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث ۱۳۰،ص۷۹)
    (7)حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے افضل اعمال فرائض ادا کرنا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حرام کردہ اشیاء سے بچنا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں نیّتوں کو درست کرنا ہے ۔''
 (اتحاف السادۃ المتقین، کتاب النیۃوالاخلاص، ج۱۳ ،ص۱۹)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
جیسی نیت ویسا صلہ
    حضرتِ سیدنا ابو کبشہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم رء وف رّحیم علیہ الصلوۃ والسلام کو فرماتے ہوئے سنا :''لوگ چار قسم کے ہیں ؛پہلا: وہ جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مال او رعلم عطا فرمایا تو وہ پرہیز گاری کرتا ، صلہ رحمی کرتا اور اس نعمت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حق جانتا ہے تو یہ بہترین مرتبہ ومنزل میں ہے ۔ دوسرا: وہ شخص جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے علم عطا فرمایا اس کے پاس مال نہیں اور وہ نیت میں سچا ہے اور کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو فلاں کی طر ح عمل کرتا تو وہ اپنی نیت کے ساتھ ہے ۔ اور ان دونوں کا اجرو ثواب برابر ہے ۔تیسرا: وہ شخص جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مال عطا فرمایا اورعلم عطا نہ فرمایا اور وہ اپنامال بغیر علم کے خرچ کرتا ، پر ہیز گا ر ی نہیں کرتا ،نہ صلہ رحمی
Flag Counter