Brailvi Books

رِیاکاری
109 - 167
نیت کسے کہتے ہیں؟
    نیت لُغوی طورپردل کے پختہ اِرادے کو کہتے ہیں اور شَرْعاً عبادت کے اِرادے کو نیت کہا جاتا ہے۔
(ماخوذ از نزھۃالقاری شرح صحیح البخاری ،ج۱،ص۲۲۶)
جتنی نیّتیں زیادہ اُتنا ثواب بھی زیادہ
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ایک عمل میں جتنی نیّتیں ہوں گی اتنی نیکیوں کا ثواب ملے گا،مثلاًمحتاج قرَابَت دار کی مدد کرنے میں اگر نیت فقط لِوَجْہِ اللہِ (یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے )دینے کی ہوگی تو ایک نیت کا ثواب پائے گا اور اگر صلۂ رحمی کی نیّت بھی کریگا تو دوہراثواب پائے گا۔
(اشعۃ اللمعات،ج۱،ص۳۶)
اسی طرح مسجد میں نماز کے لئے جانابھی ایک عمل ہے اس میں بہت سی نیّتیں کی جاسکتی ہیں ، امامِ اہلسنّت الشاہ مولانا احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن نے فتاویٰ رضویہ جلد5صفحہ673 میں اس کے لئے چالیس نیّتیں بیان کیں اور فرمایا:''بے شک جو علمِ نیّت جانتا ہے ایک ایک فعل کو اپنے لئے کئی کئی نیکیاں کرسکتا ہے ۔''
(فتاویٰ رضویہ ،ج۵،ص۶۷۳)
    بلکہ مباح کاموں میں بھی اچھی نیتیں کرنے سے ثواب ملے گا،مثلاً خوشبو لگانے میں اتباعِ سنت، تعظیمِ مسجد ،فرحتِ دماغ اور اپنے اسلامی بھائیوں سے ناپسندیدہ بُودور کرنے کی نیّتیں ہوں تو ہر نیّت کاالگ ثواب ہوگا۔
(اشعۃاللمعات ،ج ۱،ص۳۷)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
Flag Counter