حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے۔''
(صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان الاعمال۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۵۴،ص۷)
حضرت سیِّدُناابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار ، بِاِذنِ پرَوَرْدگار دوعالَم کے مالِک ومُختار، شَہَنشاہِ اَبرار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پوچھا گیا کہ''ایک آدمی شجاعت کے اظہار،دوسرا قومی غیرت اور تیسراریاکاری کی غرض سے لڑتا ہے،ان میں سے کون اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہاد کر رہا ہے؟''...فرمایا،''جو شخص صرف اِس غرض سے لڑے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کاکلمہ بلند ہو،وہ اس کے راستے میں مجاہد ہے۔''
(صحیح البخاری،کتاب الجہادوالسیر/کتاب التوحید،باب من قاتل لکتون کلمۃ۔۔۔۔۔۔الخ/باب قولہ تعالی ولقد سبقت ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۲۸۱۰/۷۴۵۸،ج۲/۴،ص۲۵۶/۵۶۱)
اس حدیث سے معلوم ہواتمام نیکیوں کے ثواب کے حصول کے لئے اخلاص اور رضائے الہٰی شرط ہے۔
(فیوض الباری،ج۱۱،۱۲،ص۱۹۴)