Brailvi Books

رِیاکاری
106 - 167
مثال ہے کہ جس طرح بلند خطہ کی بہتر زمین کاباغ ہر حال میں خوب پھلتا ہے خواہ بارش کم ہو یا زیادہ! ایسے ہی با اخلاص مؤمن کا صدقہ اور انفاق خواہ کم ہو یا زیادہ اللہ تعالیٰ اس کو بڑھا تاہے اور وہ تمہاری نیت اور اخلاص کو جانتا ہے ۔
(خزائن العرفان،ص۸۱)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مُخلِص کون؟
     انسان مخلص کب ہوتا ہے ؟ اس بارے میں اسلاف کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کے چند اقوال ملاحظہ ہوں ؛

     (1)حضرتِ سیدنا يحیٰ بن معاذ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سُوال ہوا کہ انسان کب مُخلص ہوتا ہے؟فرمایا:''جب شِیر خوار بچہ کی طرح اُس کی عادت ہو۔شِیر خوار بچہ کی کوئی تعریف کرے تو اُسے اچھی نہیں لگتی اور مَذمّت کرے تو اُسے بُری نہیں معلوم ہوتی۔جس طرح وہ اپنی تعریف و مذمّت سے بے پرواہ ہوتاہے۔اِسی طرح انسان جب تعریف و مذمّت کی پرواہ نہ کرے تو مُخلص کہا جا سکتا ہے۔''
(اَخْلاقُ الصّالِحِیْن مطبوعہ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)
    (2)حضرت ذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ القوی سے کسی نے پوچھا کہ آدمی کس وقت سمجھے کہ وہ مخلصین میں سے ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ جب وہ اعمالِ صالحہ میں پوری کوشش صَرْف کردے اوراس کو پسند کرے کہ میں معزز نہ سمجھا جاؤں ۔
(تنبیہ المغترین ،ص۲۳)
Flag Counter