| رِیاکاری |
کے تحت لکھتے ہیں : اس فرمان عالی کا مقصد یہ ہے کہ تم ریا کرکے اپنے ثواب کیوں برباد کرتے ہو تم اخلاص سے نیکیاں کرو خفیہ کرو اللہ تعالیٰ تمہاری نیکیاں خود بخود لوگوں کو بتادے گا لوگوں کے دل تمہیں نیک ماننے لگیں گے۔ یہ نہایت ہی مُجَرَّب ہے بعض لوگ خفیہ تہجد پڑھتے ہیں لوگ خواہ مخواہ انہیں تہجد خواں کہنے لگتے ہیں، تہجد بلکہ ہر نیکی کا نور چہرے پر نمودار ہوجاتا ہے۔ جس کا دن رات مشاہدہ ہورہا ہے لوگ حضور غوث پاک خواجہ اجمیری کو ولی کہتے ہیں کیونکہ رب تعالیٰ کہلوارہا ہے یہ ہے اِس فرمانِ عالی کا ظہور۔
(مِرْاٰۃُ المناجیح،ج۷،ص۱۴۵)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مخلص مؤمن کی مثال
قراٰن پاک میں مخلص مؤمن کی مثال ان الفاظ کے ساتھ دی گئی ہے ؛
وَمَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوَالَہُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللہِ وَتَثْبِیۡتًا مِّنْ اَنۡفُسِہِمْ کَمَثَلِ جَنَّۃٍۭ بِرَبْوَۃٍ اَصَابَہَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُکُلَہَا ضِعْفَیۡنِ ۚ فَاِنۡ لَّمْ یُصِبْہَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ؕ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۲۶۵﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اور ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی رضا چاہنے میں خرچ کرتے ہیں اور اپنے دل جمانے کو اس با غ کی سی ہے جو بھوڑ(ریتلی زمین)پر ہو اس پر زور کا پانی پڑا تو دونے میوے لایا پھر اگر زور کا مینھ اسے نہ پہنچے تو اوس کافی ہے اور اللہ تمہارے کا م دیکھ رہا ہے۔(پ۳، البقرۃ:۲۶۵)
حضرتِ صدر الْاَفاضِل سیِّدُنا مولیٰنا محمد نعیم الدین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی خَزائنُ العرفان میں اس کے تحت لکھتے ہیں: کہ یہ مؤمن مخلص کے اعمال کی ایک