| رِیاکاری |
دُنیا سے مراد دنیاوی نعمتیں بھی ہیں اور دنیا کے لوگ بھی یعنی دنیا اور دنیا دار اس کے پاس خادم بن کر حاضری دیتے ہیں جیسا کہ اولیاء اﷲ کے آستانوں پر دیکھا جارہا ہے ۔شعر
وہ کہ اِس در کا ہوا خلقِ خدا اُس کی ہوئی وہ کہ اِس در سے پھِرا اﷲ اُس سے پھر گیا
فقیری سے مراد ہے لوگوں کی محتاجی، ان کا حاجت مند رہنا ہے ان کے دروازوں پر دھکے کھانا انکی خوشامدیں کرنا ۔ یعنی اس کا دل پریشان رہے کبھی روٹی کے پیچھے دوڑے گا کبھی کپڑے کی فکر میں مارا مارا پھرے گا کبھی دیگر ضروریات کے لیے پریشان پھرے گا اللہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کرنے کا وقت ہی نہ پائے گا یہ بھی تجربہ سے ثابت ہے۔ یعنی اس کی ایسی دوڑ دھوپ سے اس کی دنیا میں اضافہ نہ ہوگا بلکہ اس کی پریشانیوں میں ہی اضافہ ہوگا دنیا اتنی ہی ملے گی جتنی مقدر میں ہے۔
(مِرْاٰۃ ُ المناجیح ،ج۷،ص۱۳۱)
(۶) مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اگر تم میں سے کوئی شخص کسی ایسی سخت چٹان میں کوئی عمل کرے جس کا نہ تو کوئی دروازہ ہواور نہ ہی روشندان، تب بھی اس کا عمل ظاہر ہوجائے گا اور جو ہوناہے ہو کر رہے گا۔''
(المسندللامام احمد بن حنبل،مسند ابی سعید خدری ، الحدیث:۱۱۲۳۰،ج۴،ص۵۷)
حکیم الامت حضرت مولانامفتی احمدیارخان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی اس حدیث