| رِیاکاری |
اپنی عبادت کرنے والے سے فرمائے گا ''میری عزّت اور میرے جلال کی قسم ! میری عبادت سے تیرا کیا مقصود تھا؟'' وہ عرض کریگا:'' تیری عزت و جلال کی قسم !میرے اِرادے کو تو بہتر جانتا ہے ، میں نے تیری رضا چاہی۔''ارشاد فرمائے گا :''میرے بندے نے سچ کہا،اسے جنت کی طر ف لے جاؤ ۔''
(المعجم الاوسط ،رقم ، ۵۱۰۵ ،ج۴ ، ص ۳۰)
(5)حضرت سیِّدُناانس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ جس کی نیت آخرت کمانا ہو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی غنا اس کے دل میں ڈال دے گا اور اس کی متفرقات کو جمع کردے گا اور اس کے پاس دنیا ذلیل ہو کر آئے گی اور جس کی نیت دنیا طلبی ہو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ فقیری اس کی آنکھوں کے سامنے کردے گا اور اس پر اس کے کام پراگندہ کردے گا اور اس کے پاس آئے گی اتنی جتنی اس کے لیے لکھی گئی ۔
(مشکاۃ المصابیح،کتاب الرقاق،باب الریاء والسمعۃ،الحدیث،۵۳۲۰،ج۲،ص۲۶۷)
حَکِیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں :یعنی اخلاص والے کو رب تعالیٰ دِلی استغناء بھی بخشتا ہے اورا س کی متفرق حاجتیں یکجا جمع بھی فرمادیتا ہے کہ گھر بیٹھے اس کی ساری ضرورتیں پوری ہوتی رہتی ہیں ۔ضرورتوں کے پاس وہ نہیں جاتا، ضروریات اس کے پاس آتی ہیں۔ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہوجاتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کا ہوجاتا ہے ۔ جس جانور کو کیلے (کھونٹے)سے باندھ دیتے ہیں اس کی ہر ضرورت وہاں ہی پہنچ جاتی ہے۔