مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: (جو آخرت کی کھیتی چاہے)یعنیاللہ(عزوجل)کی رضا اور جناب مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خوشنودی چاہے ،ریا کے لئے اعمال نہ کرے(ہم اس کی کھیتی بڑھائیں )یعنی اسے زیادہ نیکیوں کی توفیق دیں گے ،نیک کام آسان کردیں گے،اعمال کا ثواب بے حساب بخشیں گے ۔ (اور جو دنیا کی کھیتی چاہے )کہ محض دنیا کمانے کے لئے نیکیاں کرے ، عزت وجاہ کے لئے عالم،حاجی بنے،ٖغنیمت کے لئے غازی ،(ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں) کیونکہ اس نے آخرت کے لئے عمل کئے ہی نہیں،معلوم ہو اکہ ریا کار ثواب سے محروم رہتاہے مگر شرعا اس کا عمل درست ہے، ریا کی نماز سے فرض ادا ہو جائے گا ،مگر ثواب نہ ملے گااس لئے