=(سنن الترمذي ،کتاب الإیمان ، باب ماجاء في حرمۃ الصلاۃ ، ج۴، ص۲۸۰، الحدیث ۲۶۵، دار الفکر ، بیروت)
۱۔''مسلمان اور ایمان کی کہاوت ایسی ہے دلسے چراگاہ میں گھوڑا اپنی رسّی سے بندھا ہوا کہ چاروں طرف چر کر پھر اپنی بندش کی طرف پلٹ آتا ہے ، یوں ہی مسلمان سے بُھول ہوجاتی ہے پھر ایمان کی طرف رجوع لاتاہے تو اپنا کھانا پرہیزگاروں کو کھلاؤ اوراپنانیک سلوک سب مسلمانوں کو دو''۔ اسے بیہقی نے شعب الایمان میں اور ابو نعیم نے حلیہ میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے روایت کیا ("شعب الإیمان" ، ج۷، ص۴۵۲، الحدیث۱۰۹۶۴، دار الکتب العلمیۃ، بیروت ، "حلیۃ الأولیاء" ، عبداللہ بن مبارک ، ج۸، ص۱۹۱، الحدیث۱۱۸۴۹، دار الکتب العلمیۃ ، بیروت) ۲۔گناہوں کا علاج