''من سرہ أن یمد لہ في عمر ہ، و یوسع لہ في رزقہ، و یدفع عنہ میتۃ السوئ، فلیتق اللہ و لیصل رحمہ '' رواہ عبداللہ ابن الإمام في زوائد المسند و البزار بسند جیّد و الحاکم في المستدرک عن أمیر المؤمنین علي کرم اللہ تعالٰی وجہہ و الحاکم نحوہ في حدیث عن عقبۃ بن عامر رضي اللہ تعالٰی عنہ(۳)۔
۱۔ ''بے شک صدقہ اورصلہ رحم ي ،ان دونوں کے اللہ تعالیٰ عمر بڑھاتاہے اوربُری موت کو دفع کرتاہے اورمکروہ اور اندیشہ کو دُور کرتاہے ''۔ اسے ابویعلٰی نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا(" مسند أبي یعلٰی" ، مسند أنس بن مالک ، ج۳، ص۳۹۸، الحدیث۴۰۹۰، دار الکتب العلمیۃ ، بیروت)
۲۔ ''جسے یہ بات پسند ہو کہ اس کے رزق میں وسعت(کشادگی)کی جائے ، مال میں برکت ہو ، تو اُسے چاہ ے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرے ''۔ اسے امام بخاری نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔
("صحیح البخاري" ، کتاب الأدب ، باب من بسط الخ، ج۴، ص۹۷، الحدیث:۵۹۸۶، دار الکتب العلمیۃ ، بیروت)
۳۔ ''جسے یہ بات خوش ہو کہ اُس کی عمر دراز ہو اور رزق میں کشادگی ہو اور بری موت دور ہو تو اُسے چاہ یے کہ اللہ عزوجل سے ڈرے اوراپنے=