Brailvi Books

راہِ خدا میں خرچ کرنے کے فضائل
37 - 41
مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَۃٌ خَیۡرٌ مِّنۡ صَدَقَۃٍ یَّتْبَعُہَاۤ اَذًیؕ وَاللہُ غَنِیٌّ حَلِیۡمٌ﴿۲۶۳﴾ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُبْطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالْمَنِّ وَالۡاَذٰیۙ کَالَّذِیۡ یُنۡفِقُ مَالَہٗ رِئَآءَ النَّاسِ  ''
    جو لوگ مال خرچ کرتے ہیں اپنے مال خدا کی راہ میں پھر اپنے دئیے کے پیچھے نہ احسان رکھیں، نہ دل دکھانا ،اُن کے لئے ان کا ثواب ہے اپنے رب کے پاس ، نہ اُن پر خوف اورنہ وہ غم کھائیں ، اچھی بات (کہ ہاتھ نہ پہنچا تو میٹھی زبان سے سائل کو پھیر دیا) اوردرگزرے (کہ فقیر نے نا حق ہٹ (۲) یا کوئی بے جا حرکت کی تو اس پر خیا ل نہ کیا، اسے دُکھ نہ دیا ) یہ اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دل ستانا (۳) ہو اوراللہ بے پرواہ ہے (کہ تمھارے صدقہ و خیرات کی پرواہ نہیں رکھتا ، احسان کس پر کرتے ہو)حلم والا ہے (کہ تمھیں بے شمار نعمتیں دے کر تمھاری سخت سخت نا فرمانیوں سے درگزر فرماتاہے تم ایک نوالہ محتاج کو دے کر و جہ بے و جہ اسے ایذا دیتے ہو) اے ایمان والو ! اپنی خیرات اکارت (۴) نہ کرو احسان رکھنے اوردل ستانے سے اس کی طرح جو مال خرچ کرتاہے لوگوں کے دکھاوے کو(کہ اس کا صدقہ سرے سے اکارت ہے و العیاذباللہ رب العالمین )

    ان سب باتوں کے لحاظ کے ساتھ اس عمل کو ایک ہی بار نہ کریں بار باربجالائیں(۵) کہ جتنی کثرت ہوگی اتنی ہی فقراء وغربا کی منفعت (۶) ہوگی، اتنی اپنے لئے دینی و دُنیوی و جسمی و جانی رحمت وبرکت ونعمت وسعادت ہوگی ،خصوصاً ا یام ِ قحط میں
    ۱۔پ۳،البقرۃ:۲۶۲تا۲۶۴        ۲۔بلاو جہ ضد     ۳۔ دل دُکھانا

۴۔ برباد، ضائع            ۵۔کریں         ۶۔ فائدہ
(1) الآیۃ ۔
Flag Counter