| راہِ خدا میں خرچ کرنے کے فضائل |
تو جب تک عیاذاً باللہ قحط رہے روزانہ ایساہی کرنا مناسب کہ اس میں نہایت سہل (۱) طور پر غرباء و مساکین کی خبرگیری(۲) ہوجائے گی ،اپنے کھانے میں اُن کا کھانا بھی نکل جائے گا ،دیتے ہوئے نفس کو معلوم بھی نہ ہوگا اورجماعت کی و جہ سے سو کا کھانا دوسو کو کفایت کریگا ، قحط عام الرماد (۳) میں حضرت سیّدنا امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی کا قصد ظاہر فرمایا،
وباللہ التوفیق وھدایۃ الطریق۔
الحمدللہ کہ یہ متفرد جواب نفیس و لا جواب عشرہ اوسط ماہِ فاخر ربیع الآخر(۴) کے تین جلسوں(۵) میں تسویداً (۶)و تبییضا ً (۷) تمام اوربلحاظِ تاریخ
راد القحط و الوباء بدعوۃ الجیران و مواساۃ الفقراء
۱۔بہت آسان ۲۔خاطر تواضع ۳۔ خاکستری کے سال ۴۔عمدہ مہینے ، ربیع الثانی کے درمیانی دس دنوں ۵۔نشستوں ۶۔مسوّدہ کی تحریر ۷۔ نوک پلک سنوار کر بہتری ۸۔اور ہماری دُعا کا خاتمہ یہ ہے کہ سب خوبیاں اللہ عزوجل کو جو مالک سارے جہان والوں کا اور رسولوں کے سردار محمد ، ان کی آل اورتمام صحابہ پر درود و سلام ،اللہ تبارک وتعالیٰ زیادہ جانتاہے اوراس کا علم ، اس کی بزرگی کا مل ترین اوربہت زیادہ محکم ہے ۔
نام ہوا ۔
و اٰخردعوٰنا أن الحمد للہ رب العٰلمین و الصلاۃ و السلام علی سید المرسلین محمد و اٰلہ وصحبہ أجعمین و اللہ سبحنہ و تعالٰی أعلم و علمہ جل مجد ہ أ تم و أحکم(۸) ۔ ٭٭٭٭٭