| راہِ خدا میں خرچ کرنے کے فضائل |
رضي اللہ تعالٰی عنھما عن النبي صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بلفظ'' یدعی إلیہ الشبعان و یحبس عنہ الجائع'' وفي الباب غیرھما(۱)۔
v۔فقراء کہ آئیں کہ اُن کی مدارات و خاطر داری (۲) میں سعی جمیل(۳) کریں ، اپنا احسان اُن پرنہ رکھیں بلکہ آنے میں اُن کا احسان اپنے اوپر جانیں کہ وہ اپنا رزق کھاتے اورتمھارے گنا ہ مٹاتے ہیں ، اٹھانے، بٹھانے ،بُلانے، کھلانے، کسی بات میں برتاؤ ایسا نہ کریں جس سے ان کا دل دُکھے کہ احسان رکھنے ،ایذا دینے سے صدقہ بالکل اکارت جاتاہے ،
قال اللہ تعالٰی :
'' اَلَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوٰلَہُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوۡنَ مَاۤ اَنۡفَقُوۡا مَنًّا وَّلَاۤ اَذًیۙ لَّہُمْ اَجْرُہُمْ عِنۡدَ رَبِّہِمْۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ﴿۲۶۲﴾ قَوْلٌ
۱۔ امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا : ''بدترین کھانا اُس دعوتِ ولیمہ کا کھانا ہے کہ جو اس میں آنا چاہتا ہے اسے روک دیا جاتاہے اورجو نہیں آنا چاہتا اسے بلایا جاتاہے '' (صحیح مسلم، کتاب النکاح ، باب الأمر بإجابۃ الداعي إلی دعوۃ ، ص۷۵۰، الحدیث: ۱۱۰، دار ابن حزم، بیروت ) (طبرانی نے کبیر میں اور دیلمی نے مسند الفردوس میں سندِ حسن کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے واسطہ سے حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کا ارشاد گرامی اس لفظ سے نقل کیا کہ'' سیر شدہ کو دعوت دی جائے اوربُھوکے کو روکا جائے ''(المعجم الکبیر ، أبو العالیۃ عن ابن عباس ، ج۱۲، ص۱۲۳، رقم الحدیث۱۲۷۵۴، دار إحیاء التراث العربي، بیروت) اس بارے میں ان کے علاوہ نے بھی احادیث روایت کی ہیں ۔ ۲۔خاطر تواضع کرنا ، خوب خدمت کرنے ۳۔اچھی کوشش