Brailvi Books

راہِ خدا میں خرچ کرنے کے فضائل
35 - 41
الباب عن ابن عباس رضي اللہ تعالٰی عنھما(۱)۔
    ناپاک مال والوں کو یہ روناکیا تھوڑا ہے کہ ان کا صدقہ ، خیرات ، فاتحہ ، نیاز کچھ قبول نہیں ، و العیاذ باللہ تعالیٰ ۔

    iv۔زنہار ،زنہار (۲) ایسا نہ کر کہ کھاتے پیتوں کو بُلائیں، محتاجوں کو چھوڑیں کہ زیادہ مستحق وہی ہیں اور انھیں اس کی حاجت ہے تو ان کا چھوڑنا انھیں ایذا (۳)دینا اور دل دُکھانا ہے ، مسلمانوں کی دل شکنی (۴) معاذاللہ و ُہ بلائے عظیم ہے کہ سارے عمل کو خاک کردے گی ، ایسے کھانے کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰعلیہ وسلم نے سب سے بدتر کھانا فرمایا کہ پیٹ بھرے بُلائے جائیں جنھیں پرواہ نہیں اوربُھوکے چھوڑ دئیے جائیں جو آنا چاہتے ہیں ۔
    مسلم عن أبي ھریرۃ رضي اللہ تعالٰی عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:'' شرالطعام طعام الولیمۃ یمنعھا من یأتیھا و یُدعٰی إلیھا من یأباھا'' وللطبراني في الکبیر و الدیلمي في مسند الفردوس بسند حسن عن ابن عباس
۱۔''شیخین (امام بخاری ومسلم)، نسائی ، ترمذی، ابن ما جہ اور ا بن خزیمہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت فرمایا ' رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا : ''اللہ تعالیٰ پاک ہی کوقبول کرتاہے'' (صحیح البخاري،کتاب الزکاۃ ، باب صدقۃ من کسب طیب ، ج۱، ص۴۷۶، رقم الحدیث۱۴۱۰، دار الکتب العلمیۃ ، بیروت)یہ حدیث کا ایک حصہ ہے اور اس بارے میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی حدیث مروی ہے۔

۲۔خبردار، ہر گز         ۳۔ تکلیف         ۴۔ دل توڑنا
Flag Counter