جب کام کچھ بڑھتا نہیں صرف نیت کرلینے میں ایک کام کے دس ہو جاتے ہیں تو ایک ہی نیت کرنا کیسی حماقت اور بلا و جہ اپنا نقصان ہے ۔ہم اوپر اشارہ کرچکے کہ اس عمل میں کتنی نیکیوں کی نیت ہوسکتی ہے ان سب کا قصد (۳) کریں کہ سب کے منافع پائیں بلکہ حقیقتاً اس عمل سے بلا ٹلنا بھی انہی نیتوں کا پھل ہے جیسا کہ ہم نے احادیث سے روشن کردیا تو بغیر ان نیتوں
أعنی
صدقہ فقرا و خدمتِ صلحا و صلہ رحم و احسانِ جار(۴) وغیرہ مذکورات کے بلا ٹلنے کی خالی نیت پوست بے مغز (۵)ہے ۔
iii۔ اپنے مالوں کی پاکی میں حد درجہ کی کوشش بجا لائیں کہ اس کام میں پاک ہی مال لگایا جائے ،اللہ عزوجل پاک ہے پاک ہی کو قبول فرماتاہے۔الشیخان و النسائي و الترمذي و ابن ماجۃ و ابن خزیمۃ عن أبي ھریرۃ رضي اللہ تعالٰی عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم: ''لا یقبل اللہ إلا الطیب'' ھو قطعۃ حدیث و في
۱۔پھل ، بدلہ ۲۔ '' ہر شخص کو وہی حاصل ہوگاجس کی وہ نیت کرے'' (صحیح البخاري ،کتاب بدء الوحي ، باب کیف کان بدء الوحي إلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ج۱، ص۶، رقم الحدیث۱، دار الکتب العلمیۃ ، بیروت) ۳۔ ارادہ ۴۔میرا مطلب ہے کہ فقیروں پر صدقہ کرنا ، نیک لوگوں کی خدمت، رشتہ داروں سے حسن سلوک سے پیش آنا اورپڑوسیوں پر احسان کرنا ۵۔ بغیر دماغ کے کھال ، مراد بے وقوفی