| راہِ خدا میں خرچ کرنے کے فضائل |
امام بیہقی فرماتے ہیں میں وہ رقعہ اپنے استاد حاکم کے پاس لے گیا ،انھوں نے اپنے دروازے پرایک سقایہ (۲) بنانے کا حکم دیا، جب بن چکا اس میں پانی بھروادیا اوربرف ڈالی اورلوگوں نے پینا شروع کیاایک ہفتہ نہ گزرا تھا کہ شفاء ظاہر ہوئی پھوڑے جاتے رہے، چہرہ اس اچھے سے اچھے حال پر ہوگیاجیسا کبھی نہ تھا ، اس کے بعد برسوں زندہ رہے (۳)۔
بالجملہ(۴) مسلمانوں کوچاہیے اس پاک مبارک عمل میں چند باتوں کا لحاظ واجب جانیں کہ ان منافع جلیلہ دُنیا و آ خرت سے بہرہ مند(۵)ہوں ۔
i۔ تصحیح نیت (۶) کہ آدمی کی جیسی نیت ہوتی ہے ویسا ہی پھل پاتا ہے ، نیک کام کیا اورنیت بُری تو وہ کچھ کام کا نہیں ،"إنما الأعمال بالنیات"(۷)
تو لازم کہ ریا یا ناموری (۸) وغیرہ اغراض فاسد ہ (۹) کو اصلا ً (۱۰)دخل نہ دیں ورنہ نفع درکنار(۱۱) نقصان کے سزاوار (۱۲) ہونگے
و العیا ذ باللہ تعالٰی (۱۳)۔
ii۔ صرف اپنے سر سے بلا ٹالنے کی نیت نہ کریں کہ جس نیک کام میں چند طرح
۱۔ '' ابو عبداللہ سے کہہ، مسلمانوں پر پانی کی وسعت کرے'' ۲۔پانی کی سبیل ۳۔شعب الإیمان ، ج۳، ص۲۲۲، دار الکتب العلمیۃ ، بیروت۔ ۴۔تمام ۵۔فائدہ اٹھانے والے ۶۔نیت کی درستگی ۷۔ ''اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے''(صحیح البخاري ، کتاب بدء الوحي ، باب کیف کان بدء الوحي إلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، الحدیث:۱،ج۱، ص۶، دار الکتب العلمیۃ ، بیروت) ۸۔شہرت ۹۔بُرے مقاصد ۱۰۔ بالکل ۱۱۔فائدہ تو دور کی بات ۱۲۔سزا کے حقدار ۱۳۔ اللہ تعالیٰ کی پناہ