| راہِ خدا میں خرچ کرنے کے فضائل |
یعنی ''ہم اتارتے ہیں قرآن سے وہ چیز کہ شفاء و رحمت ہے ایما ن والوں کے لئے''۔ ''شہد میں شفاء ہے لوگوں کے لئے'' ۔ ''او راتار اہم نے آسمان سے برکت والا پانی'' اور''مبارک پیڑ زیتون کا'' ''پھر اگرعورتیں اپنے جی کی خوشی کے ساتھ تمہیں مہر میں سے کچھ دے دیں تو اسے کھاؤ رچتاپچتا(۶)''۔
ان مبارک ترکیبوں کی طر ف حضرت امیر المؤمنین ،مولی المسلمین، علی مرتضی شیر خدا مشکل کشا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الاسنی و حضرت سیّدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہدایت فرمائی۔ ابن ابی حاتم اپنی تفسیر میں بسندِ حسن حضرت مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ انھوں نے فرمایا:''إذا اشتکی أحدکم فلیستوھب من امرأتہ من صداقھا درھما فلیشتر بہ عسلا ثم یأخذ ماء السماء فیجمع ھنیأا مریأا مبارکاً (۷)۔
۱۔ پ ۱۵، بنی اسرائیل : ۸۲ ۲۔ پ ۱۴، النحل : ۶۹ ۳۔ پ ۲۶، ق: ۹ ۴۔پ۱۸،النور: ۳۵ ۵۔ پ ۴، النساء :۴ ۶۔ خوشی خوشی ۷۔ المواھب اللدنیۃ ، المقصد الثامن ، الفصل الأول ، النو ع الثاني ، =
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ہُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیۡنَ (1)
وقولہ تعالٰی:
فِیۡہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ
(2)۔ وقولہ تعالٰی:
وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَکًا
(3)۔ وقولہ تعالٰی:
شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ زَیۡتُوۡنَۃٍ
(۴)۔ وقولہ تعالٰی:
فَاِنۡ طِبْنَ لَکُمْ عَنۡ شَیۡءٍ مِّنْہُ نَفْسًا فَکُلُوۡہُ ہَنِیۡٓــًٔا مَّرِیۡٓــًٔا (5)۔