''أحب الأعمال إلی اللہ تعالٰی بعد الفرائض إدخال السرور علی المسلم'' رواہ فیھما عن ابن عباس رضي اللہ تعالٰی
۱۔'' بھلائیوں کے کام بُری موتوں سے بچاتے ہیں ا ورپوشیدہ خیرات رب کا غضب بجھاتی ہے اوررشتہ داروں سے اچھاسلوک عمر میں برکت کا باعث ہے اور ہرنیکی صدقہ ہے اوردنیا میں احسان والے ،وہی آخرت میں احسان پائیں گے اوردنیا میں بدی والے وہی آخرت میں بدی دیکھیں گے اورسب میں پہلے جو جنت میں جائیں گے وہ نیک سلوک کرتے ہیں'' ۔ اسے طبرانی نے اوسط میں ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا۔
( المعجم الأوسط لطبرانی ، باب المیم من اسمہ محميد، ج۴، ص۱۱ ۳، الحدیث ۶۰۸۶، دار الکتب العلمیۃ، بیروت )
۲۔ '' بے شک مغفرت کو واجب کردینے والی چیزوں میں سے تیر ا اپنے مسلمان بھائی کا دل خوش کرناہے ''۔اسے طبرانی نے کبیر میں اور اوسط میں امام سیدنا حسن بن علی کرم اللہ تعالیٰ وجھہ الکریم سے روایت کیا (" المعجم الأوسط ، باب المیم من اسمہ موسٰی، ج۶، ص۱۲۹، الحدیث ۸۲۴۵، دار الکتب العلمیۃ ، بیروت )