''صلۃ الرحم وحسن الخلق وحسن الجوار یعمرن الدیار و یزدن في الأعمار'' رواہ الإمام أحمد و البیھقي في الشعب بسند صحیح علٰی أصولنا عن أم المؤمنین الصدیقۃ رضي اللہ
۱۔ ''بے شک سب نیکیوں میں جلد تر ثواب پہنچنے والی صلہ رحمي ہے یہاں تک کہ گھروالے فاسق بھی ہوں تب بھی ان کے مال زیادہ ہوتے ہیں اور ان کے شمار بڑھتے ہیں جب آپس میں صلہ رحمي کریں'' ۔ اسے طبرانی نے ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا (مجمع الزوائد ، کتاب البر و الصلۃ ، باب صلۃ الرحمي و قطعھا ، ج۸، ص۲۷۸، الحدیث ۱۳۴۵۶، دار الفکر، بیروت، المعجم الأوسط ، من اسمہ أحميد، ج۱، ص۳۰۷ ، الحدیث ۱۰۹۲، دارالکتب العلمیۃ، بیروت، إن ھذہ الروایۃ بالمعنی و اللفظ غیرھا )
۲۔ '' کوئی گھر والے ایسے نہیں کہ آپس میں صلہ رحمي کریں پھر محتاج ہوجائیں'' (اسے ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا (صحیح ابن حبان ، کتاب البر و الإحسان ، باب صلۃ الرحمي ، ذکر خبر الدال، ج۱، ص۳۳۳، :الحدیث ۴۴۱، دار الکتب العلمیۃ ، بیروت )