حدیث ۲۵ : کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :
''إن أعجل البر ثوابا لصلۃ الرحم حتی أن أھل البیت
= رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرے ''۔ اسے عبداللہ ابن امام نے زوائد المسند میں اوربزارنے بسندِدلد اورحاکم نے مستدرک میں امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے("الترغیب و الترھیب"، کتاب البر و الصلۃ ، باب الترغیب في صلۃ الرحمي، ج۳، ص۲۲۷، الحدیث۴، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)اوریونہی حاکم نے حدیثِ عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں روایت کیا ۔
۱۔ ''قریبی رشتہ داروں سے اچھا سلوک ، مال کو بہت بڑھانے والا ، آپس میں بہت محبت دلانے والا،عمر کو زیادہ کرنے والا ہے ''۔ اسے طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ عمرو بن سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا) "المعجم الأوسط لطبرانی" ، با المیم من اسمہ محميود، ج۶، ص۱۱ ، الحدیث ۷۸۱۰، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
۲۔ ''صلہ رحم ي سے عمر بڑھتی ہے''۔اسے قضاعی نے ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔
(کنز العمال ، کتاب الأخلاق، قسم الأقوال، باب صلۃ الرحمي و الترغیب فیھا، ج۳، ص۱۴۳، الحدیث ۶۹۰۶،دار الکتب العلمیۃ ، بیروت)