پائینچے رکھنے کی نیت کے ساتھ شریک ہوں ۔ بعد حلقہ انفرادی کوشش کے ذریعے مدنی ماحول کی برکتیں بتا کر مدنی قافلوں میں سفر کی نیتیں کروا کر نام وغیرہ لکھیں اور (۲۲) اپنے ساتھ سفر بھی کروائیں ۔ شرکائے قافلہ کو چونکہ اکثر وقت مسجد ہی میں گزارنا ہے لہٰذا قفل مدینہ سے متعلق ان چند انعامات کے نفاذ میں دونوں جہاں کی عافیت ہے ۔ مثلاً (۲۳) قہقہہ لگانے سے بچتے ہوئے (۲۴) ضروری بات بھی (۲۵) دعوتِ اسلامی کی اصطلاحات کے استعمال کے ساتھ کم لفظوں میں (درست تلفظ کی ادائیگی کا لحاظ رکھتے ہوئے ) (۲۶) لکھ کر یا اشارے سے کیجئے ۔ (۲۷) نظریں جھکا کر سامنے والے کے چہرے پر نگاہیں گاڑے بغیر گفتگو کی عادت ڈالئے (اس کے لئے قفل مدینہ کی عینک کا استعمال مفید ہے ) اور فضول بات منہ سے نکلنے پر نادم ہوکر دُرُودِ پاک پڑھئے ۔