(۳۱) آپ جناب اور جی کہنے کی عادت ڈالنے اور بات سمجھ میں آنے کے باوجود سوالیہ انداز میں ''ہیں ''یا ''کیا؟''کہنے (۳۲) دوسرو ں کی بات اطمینان سے سننے کی بجائے اُس کی بات کاٹ کر اپنی بات شروع کرنے (۳۳)الزام تراشی ، گالی گلوچ کرنے اور نام بگاڑنے سے بچنے (۳۴)عُیُوب پر مُطَّلِعْ ہونے پر پردہ پوشی اور راز کی بات کی حفاظت کی عادت بنانے (۳۵) جھوٹ ، غیبت ، چغلی ، حسد ، تکبر اور وعدہ خلافی وغیرہ سے خود کو بچانے (۳۶) دوسروں سے مانگ کر چیزیں استعمال کرنے (۳۷)ایسے فضول سوال کرنے سے بچنے جس سے مسلمان عموماً جھوٹ کے کبیرہ گناہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں (مثلاً بلاضرورت پوچھنا! کہ بھائی ہمارا کھانا کیسا لگا؟ ، آپ کا سفر کیسا گزرا؟ وغیرہ) (۳۸)عاجزی کے ایسے الفاظ (جن کی دل تائید نہ کرے ) بولنے ، فلمیں ڈرامے دیکھنے اور گانے باجے سننے کی عادت نکالنے (۳۹)سلام کا جواب اور چھینکنے والا اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَل کہے تو! اس کے جواب میں یَرْحَمُکَ اللہ اتنی آواز سے کہنا کہ وہ سن لے (۴۰) آئندہ کی ہر جائز بات کے ارادے پر اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَل ، مزاج پرسی پر شکوہ کرنے کے بجائے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَال، کسی نعمت کو دیکھ کر مَاشَاءَ اللہ عَزَّوَجَل اورمَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَل گناہ ہوتے ہی فوراً توبہ کرنے کی عادت بنانے کیلئے بھی کوشش فرمائیں گے ۔