اس کے علاوہ جب ہم اپنی روزمرہ کی دنیاوی مصروفیات ترک کرکے اپنے گھر والوں اوردوستوں کی صحبت چھوڑ کران قافلوں میں سفر کریں گے تو ان قافلوں میں سفر کے دوران ہمیں اپنے طرزِزندگی پر دیانت دارانہ غوروفکر کا موقع میسر آئے گا ،اپنی آخرت کو بہتر سے بہتر بنانے کی خواہش دل میں پیدا ہوگی، جس کے نتیجے میں اب تک کئے جانے والے گناہوں کے ارتکاب پر ندامت محسوس ہوگی اور توبہ کی توفیق ملے گی ۔
ان قافلوں میں مسلسل سفر کرنے کے نتیجے میں فحش کلامی اور فضول گوئی کی جگہ زبان سے درود ِ پاک جاری ہوجائے گا ، یہ تلاوت قرآن ،حمد ِ الٰہی اور نعتِرسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی عادی بن جائے گی ، دنیا کی محبت میں ڈوبا ہوا دل آخرت کی بہتری کے لئے بے چین ہوجائے گا ،اغیار کی وضع قطع پر اِترانے والا جسم اپنے پیارے آقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سنتوں کا آئینہ دار بن جائے گا ، غیروں کے طریقوں کو چھوڑ کر اسلاف ِ کرا م رحمہم اللہ کے نقش ِ قدم پر چلنے کی تڑپ نصیب ہوگی،یورپی ممالک کی رنگینیوں کو دیکھنے کی خواہش دم توڑ دے گی اور مکۃ المکرمہ ومدینۃ المنورہ کے مقدس سفر کی دیوانگی نصیب ہوگی ،وقت کی دولت کو محض دنیا کمانے کے لئے صرف کرنے کے بجائے اپنی آخرت کی بہتری کے لئے خدمتِ دین میں صرف کرنے کا شعور نصیب ہوگا ۔ ان شاء اللہ عزوجل ۔ آپ بھی مدنی قافلے میں سفر کی نیت فرمالیں۔ (مزید ترغیبات آئندہ صفحا ت میں ملاحظہ فرمائیے۔ )