| رَہنمائے جدول |
سربلندی کے لئے علم سیکھ رہا ہو تو جنت میں اس کے اور انبیاء علیہم السلام کے درمیان ایک درجہ ہو گا۔ (یعنی وہ ان کا قُرب پائے گا )
( سنن دارمی ،المقدمۃ،باب العلم والعالم، الحدیث ۳۵۴، ج۱، ص۱۱۲)
حضرتِ صفوان بن عسال المرادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم مسجد میں اپنے (دھاری دار)سرخ کمبل سے ٹیک لگائے تشریف فرماتھے، میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم َ !میں علم حاصل کرنے آیا ہوں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:'' طالبُ العلم کو خوش آمدید، بیشک طالبُ العلم کو ملائکہ اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں پھران میں بعض ملائکہ دیگر بعض ملائکہ پر سواری کرتے ہوئے طلب علم کی وجہ سے طالبُ العلم کی محبت میں آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہيں۔''
(طبرانی کبیر ،الحدیث۷۳۴۷ ، ج ۸، ص ۵۴)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے مدنی قافلے میں سفر کی برکت سے نہ صرف بے شمار نیکیاں حاصل ہوتی ہیں بلکہ راہ ِ خدا عَزَّوَجَل میں سفر کرنے والے کے لئے جہنم سے آزادی اور جنت کی بشارت بھی احادیث میں موجود ہے ،لہذاپہلے تو شیطان کوشش کرتا ہے کہ کسی کومدنی انعامات پر استقامت پانے کے لئے مدنی قافلے میں سفر کرنے ہی نہ دے پھر اگر کوئی اللہ عَزَّوَجَل کے فضل و کرم سے مدنی قافلے میں سفر کرنے میں کامیاب ہو بھی جا ئے تو پھر شیطان اس کوشش میں لگ جاتا ہے کہ کسی طریقے سے مدنی قافلے میں ایسے کام کروائے جس کی وجہ سے ثواب کے بجائے گناہوں کا انبار جمع ہوجائے۔