دن کا حساب کرنے کی سعادت مل جایا کرے اور یوں ہمیں سرمایہ اَعمال میں نَفْع و نقصان کی معلومات ہوتی رہے ۔ جس طرح شریکِ تِجارت سے حساب لینے میں بھرپور کوشش کی جاتی ہے اسی طرح نَفْس کے ساتھ بھی حِساب کِتاب میں بہت زیادہ اِحتِياط ضَروری ہے کیوں کہ نَفْس بَہُت چالاک اور حِیلہ ساز ہے یہ ہمیں اپنی سرکَشی بھی اِطاعت کے لِباس میں پیش کرتا ہے تاکہ بُرائی میں بھی ہمیں نَفْع نَظَر آئے حالانکہ اس میں سراسر نقصان ہے ۔صِرْف یہی نہیں بلکہ صحیح معنوں میں سُدھرنے کیلئے تمام جائِز اُمُور میں بھی نَفْس سے حِساب طَلَب کرنا چاہیے ۔ اگر اِس میں ہمیں نَفْس کا قُصور نظر آئے تو اُس سے سختی کے ساتھ کمی پوری کروانی چاہیے ۔
حضرتِ سَیِّدُنا امام حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ فرماتے ہیں : '' جلدی کرو! جلدی کرو! تمہاری زندگی کیا ہے ؟ یہ سانسیں ہی تو ہيں کہ اگر یہ رُک جائيں تو تمہارے اُن اَعمال کا سلسلہ مُنْقَطِع ہوجائے جن سے تم اﷲ عَزَّوَجَلَّ کا قُرْب حاصِل کرتے ہو۔ اﷲ عَزَّوَجَلَّ رحم فرمائے اُس شَخْص پر جس نے اپنے اَعْمال کا جائِزہ لیا اور اپنے گناہوں پر کچھ آنسو بہائے۔ ''