کااندازِ '' فکرِ مدینہ'' کس قَدَر ا علیٰ تھا اور وہ کس طرح نفس کو سدھارنے کیلئے اس کا مُحاسَبَہ فرماتے اور ہردم نیکیوں میں مصروف رہنے کے باوُجُود خود کو گنہگار تصوُّرکرتے اور ہمیشہ اللہ تعالٰی سے ڈرتے رہتے یہاں تک کہ فَرطِ خوف سے بعضوں کی روحیں پرواز کر جاتیں ۔مگر افسوس! ہماری حالت یہ ہے کہ شب و روز گناہوں کے سَمُندر میں غَرق رہنے کے باوُجوداِحساسِ نَدامت ہے نہ خوفِ عاقِبَت ۔ ہمارے اَسلاف رحمہم اللہ تعالیٰشب بیداریاں کرتے ، کثرت سے روزے رکھتے ، کثیر اَعمالِ خیر بجا لاتے مگر پھر بھی خود کو کمترین خیال کرتے ہوئے خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے گِریہ کناں رہتے ۔
امیرُ الْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُناعُمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزانہ اپنا اِحْتِساب فرمايا کرتے ، اور جب رات آتی تو اپنے پاؤں پر دُرَّہ مار کر فرماتے، بتا، آج تو نے ''کیاکيا'' کِيا ہے؟