Brailvi Books

رَہنمائے جدول
41 - 248
کااندازِ '' فکرِ مدینہ'' کس قَدَر ا علیٰ تھا اور وہ کس طرح نفس کو سدھارنے کیلئے اس کا مُحاسَبَہ فرماتے اور ہردم نیکیوں میں مصروف رہنے کے باوُجُود خود کو گنہگار تصوُّرکرتے اور ہمیشہ اللہ تعالٰی سے ڈرتے رہتے یہاں تک کہ فَرطِ خوف سے بعضوں کی روحیں پرواز کر جاتیں ۔مگر افسوس! ہماری حالت یہ ہے کہ شب و روز گناہوں کے سَمُندر میں غَرق رہنے کے باوُجوداِحساسِ نَدامت ہے نہ خوفِ عاقِبَت ۔ ہمارے اَسلاف رحمہم اللہ تعالیٰشب بیداریاں کرتے ، کثرت سے روزے رکھتے ، کثیر اَعمالِ خیر بجا لاتے مگر پھر بھی خود کو کمترین خیال کرتے ہوئے خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے گِریہ کناں رہتے ۔ 

     امیرُ الْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُناعُمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزانہ اپنا اِحْتِساب فرمايا کرتے ، اور جب رات آتی تو اپنے پاؤں پر دُرَّہ مار کر فرماتے، بتا، آج تو نے ''کیاکيا'' کِيا ہے؟
(اِحيا ء ُا لعُلوم، کتاب المراقبہ والمحاسبہ ج۵ ص ۱۳۷)
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اِس طرح اپنے نَفْس کو ملامت کرنا ، اور اﷲ عَزَّوَجَلَّ کا خوف دلاکر اس کا مُحاسَبَہ کرنا ہماری تعلیم کے لئے تھا ۔ چُنانچِہ

    ایک موقع پر سَیِّدُنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ''اے لوگو! اپنے اَعمال کا محا سبہ کرو اس سے پہلے کہ ان کا حِساب لیا جائے۔ ' '
(اِحيا ء ُا لعُلوم، کتاب المراقبہ والمحاسبہ ج۵ ص ۱۳۷،)
     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !اپنے سابِقہ اَعمال کا حِساب کرنا مُحاسَبَہ کہلاتا ہے۔کاش !روزانہ رات'' فکرِمدینہ'' کرتے ہوئے ہمیں اپنے نَفْس کے ساتھ تمام
Flag Counter