مُستَغرَق ہوکر اسی کے لئے مصروفِ تگ و دَو رہنا ، اپنی آخِرت کی بھلائی کے لئے فکروعمل سے غفلت برتنا، سابِقہ اَعمال پر اپنا اِحْتِساب کرتے ہوئے آئندہ گناہوں سے بچنے اور نیکیاں کرنے کاعَزْم نہ کرناسَراسَرنقصان و خُسران ہے اور سمجھدار وُہی ہے جس نے حسابِ آخِرت کوپیشِ نظر رکھتے ہوئے خود کوسُدھار نے کیلئے اپنے نفس کا سختی سے مُحاسَبَہ کیا،گناہوں پر افسوس اور اِن کے بُرے اَنجام کا خوف محسوس کیا ۔ جیسا کہ ہمارے اَسلاف کا طرزِ عمل رہا۔ چُنانچِہ
حُجَّۃُالْاسلام حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد غزَالی علیہ رحمۃاﷲالْوالی نَقْل فرماتے ہیں کہ حضرتِ سَیِّدُنا اِبنُ الصّمَّہ رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ نے ایک بار (''فکرِ مدینہ'' کرتے ہوئے ) اپنی عمر شُمار کی تو وہ( تقریباً )ساٹھ برس بنی۔ ان ساٹھ برسوں کوبارہ سے ضَرْب دینے پرسات سو بیس مہینے بنے ۔ سات سوبیس کو مزید تیس سے مَضْرُوب کیا تو حاصِلِ ضَرْب اکیس ہزار چھ سو آیا ۔جو آپ رَحمۃُ اللہ تعالیٰ عليہ کی مبارَک عمر کے ایّام تھے ۔پھر اپنے آپ سے مُخاطِب ہوکر فرمانے لگے، اگرمجھ سے روزانہ ایک گناہ بھی سرزد ہوا ہو تو اب تک اکیس ہزار چھ سو گناہ ہوچکے! جبکہ اِس مدّت میں ایسے ایّام بھی شامل ہوں گے جن میں یومیہ ایک ہزار تک بھی گناہ ہوئے ہوں گے ۔یہ کہنا تھا کہ خوفِ خدا عَزَّوَجَل سے لرزنے لگے پھریکایک ایک چیخ ان کے منہ سے نکل کر فَضا کی پَہنائیوں میں گم ہوگئی اور آپ رَحمۃُ اللہ تعالیٰ عليہ زمین پر تشریف لے آئے۔ دیکھا گیا تو طائِرِ رُوح قَفَسِ عُنْصُری سے پروازکرچکاتھا۔ (کیمیائے سعادت ، ج ۲، ص ۸۹۱ )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غور فرمائیے کہ ہمارے بُزُرْگانِ دین رحمہم اللہ تعالیٰ