میرياقائے نعمت ، اعلٰحضرت ،امامِ اہلسنّت ، عظیمُ البَرَکت، عظیمُ المرتبت، پروانہ شمعِ رسالت،مُجَدِّدِ دین و ملّت،پیرِ طریقت،عالِمِ شَرِیْعَت،حامِی سُنّت،ماحِی بدعت، باعِثِ خیروبَرَکت، مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ رَحْمۃُ الرحْمٰن اپنے شُہرہ آفاق تَرجَمَہ قرآن کنزُالایمان میں اِس کا ترجَمہ یوں فرماتے ہیں ،''اور جو آخِرت چاہے اور اُس کی سی کوشِش کرے اور ہو ایمان والا تو انہیں کی کوشِش ٹھکانے لگی۔''
آج ہماری حالت یہ ہے کہ اپنی ''دُنیاوی کل'' (یعنی مُستَقبِل) سُدھارنے کے لئے تو بَہُت غور و فکر کرتے، اُس کے لئے طرح طرح کی آسايشيں جمع کرنے کی ہر دم کوشش کرتے، خوب بینک بیلنس بڑھاتے ، کاروبار چمکاتے، فیوچر پروگرامز ترتیب دیتے اور نجانے کیا کیا منصوبے بناتے ہیں کہ کسی طرح ہماری یہ ''دُنیاوی کل'' بہتر ہوجائے ، ہمارا دنیاوی مستقبِل سَنوَر جائے ، لیکن افسوس! کہ ہم اپنی ''اُخروی کل'' (یعنی آخِرت ) کو سُدھارنے کی فِکرسے یکسر غافِل اوراس کی تیاّری کے مُعاملے میں بِالکل کاہِل ہیں۔حالانکہ صِرْف اِس دُنیاوی کل ہی کے سُدھرنے کا اِنتِظار کرنے والے نہ جانے کتنے نادان انسانوں کی آہِ حسرت موت کی ہچکيوں سے ہم آغوش ہوجاتی ہے اور وہ روشن مُستقبل پاکر خوشیاں منانے کے بجائے اندھیری قبرمیں اُتر کر قَعْرِ افسوس میں جا پڑتے ہیں ۔فَقَط دُنیاوی زندگی سُدھار نے کے تفکُّرَات میں