پیارے اسلامی بھائیو! جہاں مسجد میں رہنا اس قدر اجر و ثواب کا باعث ہے وہیں مسجد کا ادب و احترام نہ کرنے پر سخت وعیدیں بھی آئی ہیں ۔
حضرت سیدنا حسن بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے روایت ہے کہ سرور کائنات،شاہِ موجودات صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ ذیشان ہے کہ '' لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مساجد میں دنیا کی باتیں ہوں گی ،تم ان کے پاس مت بیٹھوکہ ان کواللہ عَزَّوَجَل سے کچھ کام نہیں۔''( کشف الخفا ء ،الحديث ۳۲۴۶،ج۲، ص۳۶۳)
حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ'' مسجد میں ہنسنا قبر میں اندھیرا (لاتا)ہے۔''
(الجامع الصغیر، فصل فی المحلی بأل من ھذاالحرف الحدیث:۵۲۳۱ ج۱،ص:۳۲۲ )
پیا رے اسلامی بھائیو!شیطا ن کی پوری کوشش یہ ہو گی کہ مسجد میں دنیا وی باتیں کروائے، یا وہ مسجد میں با ت با ت پرہنسانے کی کوشش کریگا لہذا تمام اسلامی بھائی نیت کیجیے کہ مسجد کا خوب ادب و احترام کرتے ہوئے مکمل سنجیدہ رہنے کی کوشش کریں گے۔ ایسا نہ ہوکہ ہم نے راہِ خدا عَزَّوَجَل میں سفر تو نیکیاں کمانے کے لئے اختیار کیا مگرمسجد کی بے ادبی کر کے ،امیر قافلہ کی نا فرمانی کرکے ،کسی کی دل آزاری کرکے ، اپنا قیمتی وقت غفلت میں گزار کر ، جب واپس پلٹیں تو بہت سارے اجرو ثواب سے محرومی،اور گناہوں کا انبار ہمارے سر پر ہو۔اللہ عَزَّوَجَل ہمیں مدنی مرکز کی ہدایات کے مطابق سفر کرنے ، اپنے امیرِقافلہ کی ہر پل اطاعت کرنے، مساجد کا ادب و احترام کرنے ،شیطان کے حیلے اور سازشوں سے بچنے ، ایک دوسرے کا خیال رکھنے ،