| رَہنمائے جدول |
(۱)امیر کی اطاعت (۲) شیطان کے حیلے اورسازشوں سے بچنا
(۳)صبر (۴)مساجدکا ادب واحترام کرنا۔(۱) امیر کی اطاعت:
پیارے اسلامی بھائیو!ب بھی کوئی سفر کیا جائے تو ہمیں چاہيے کہ کسی اسلامی بھائی کو اپنا امیر مقرر کر لیں جیسا کہ مَدَنی آقا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے''اگر تین شخص سفر میں ہو ں تو انہیں چاہے کہ ایک کو اپنا امیر بنالیں۔''
(کنزا لعمال ،الحدیث۱۷۴۹۶،ج ۶، ص۳۰۰ )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر کی اطاعت بہت ضروری ہے کیونکہ حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ ذیشان ہے کہ ''اگر تم پر کوئی نکٹا حبشی غلام بھی امیر مقررکر دیا جائے جو تمہیں اللہ عَزَّوَجَل کی کتاب کے مطابق چلائے تو اس کی بات سنو اوراطاعت کرو۔''(صحیح مسلم ، کتاب الامارہ، باب وجوب طاعۃ الامراء فی غير معصيۃالخ، الحدیث:۱۸۳۸،ص۱۰۲۳،)
الحمدللہ عزوجل عاشقانِ رسول کے مدنی قافلے میں بھی کسی ایک کو امیر قافلہ بنایا جاتا ہے تاکہ قافلے میں تمام معمولات منظم انداز میں پورے کئے جاسکیں ۔
پیارے اسلامی بھائیو!اطاعت کاپہلو تقریباًہر جگہ موجود ہے ، مثلاً:ہر ادارے میں اصول و ضوابط ہوتے ہیں اور ایک سربراہ ہوتا ہے ،گھر کانظام چلانے کے لئے بھی ایک سربراہ ہوتا ہے ،جو سربراہ کی اطاعت کرتا ہے فرمانبردار کہلاتاہے اور