Brailvi Books

رَہنمائے جدول
24 - 248
ہيں،''حضرت سيدنا ابو عثمان مغربی رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ سے ان کے مريد نے عرض کيا، کبھی کبھی ايسا ہوتا ہے کہ دل کی رغبت کے بغير بھی ميری زبان سے ذِکْرُاللہ عَزَّوَجَل جاری رہتا ہے ۔ اُنہوں نے فرمايا ، ''يہ بھی تو مقام شکر ہے کہ تمھارے ايک عضو (يعنی زَبان )کو اللہ عَزَّوَجَل نے اپنے ذِکر کی توفيق بخشی ہے''۔ جس کا دل ذِکْرُاللہِ عَزَّوَجَل میں نہیں لگتا اس کو بعض اوقات شَيطان وسوسہ ڈالتا ہے کہ جب تيرا دل ذِکْرُاللہ عَزَّوَجَل ميں نہيں لگتا تو خاموش ہوجاکہ ايسا ذِکْر کرنا بے ادبی ہے ۔

     امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ فرماتے ہيں، اِس وَسوَسے کا جواب دينے والے تين قسم کے لوگ ہيں ۔ ايک قسم ان لوگوں کی ہے جوايسے موقع پر شيطان سے کہتے ہيں ،خوب توجہ دلائی اب ميں تجھے زِچ کرنے کيلئے دل کو بھی حاضر کرتا ہوں اسطرح شيطان کے زخموں پر نمک پاشی ہوجاتی ہے۔ دوسرے وہ احمق ہيں جو شيطان سے کہتے ہيں ،تونے ٹھيک کہا جب دل ہی حاضر نہيں تو زبان ہلائے جانے سے کيا فائدہ!اور و ہ ذِکْرُاللہ عَزَّوَجَل سے خاموش ہوجاتے ہيں۔ يہ نادان سمجھتے ہيں کہ ہم نے عقلمندی کا کام کيا حالانکہ انہوں نے شيطان کو اپناہمدرد سمجھ کر دھوکاکھاليا ہے۔ تيسری قسم کے لوگ وہ ہيں جو کہتے ہيں اگر چہ ہم دل کو حاضر نہيں کرسکے مگر پھر بھی زَبان کو ذِکراللہ عَزَّوَجَل ميں مصروف رکھنا خاموش رہنے سے بہتر ہے۔ اگر چہ دل لگا کرذِکْرُاللہ عَزَّوَجَل کرنااس طرح کے ذِکْرُاللہ عَزَّوَجَل سے کہيں بہتر ہے۔(کیمیائے سعادت ،ج۲ ،ص۷۷۱ ) 

    ميٹھے ميٹھے اسلامی بھائيو!ديکھا آپ نے ! دل نہ لگے تب بھی عمل کو جاری